حیدرآباد،25/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) تلنگانہ کی حکمران جماعت بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے بی جے پی کی مرکزی حکومت پر اڈانی معاملہ پر سوالات کی بوچھارکر دی۔ سوشل میڈیا کے اہم پلیٹ فارم ٹوئٹر پرسرگرم کویتا نے اس خصوص میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اڈانی گروپ کی سرمایہ کاری والی ایل آئی سی کمپنی کے ہولڈنگس کی قدر خریدی کی قیمت 11 فیصد گھٹ گئی ہے۔
مودی حکومت سے ان لاکھوں متوسط درجہ کے افراد کا کہنا ہے جنہوں نے ایل آئی سی میں سرمایہ کاری کی تھی؟ سی بی آئی، ای ڈی، آربی آئی اس پر کیوں خاموش ہیں یا پھر یہ ادارے صرف سیاسی انتقام کے لئے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بی آر ایس، اڈانی گھوٹالے پر جے پی سی کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے 28 جنوری کو کئے گئے اپنے ٹوئٹ کو بھی ٹیگ کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اڈانی پر رپورٹ کے بعد ایل آئی سی اور سی بی آئی کی قدر میں گراوٹ، اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر فائنانس نرملا سیتارمن اور سیبی سے درخواست کی تھی کہ وہ نہ صرف بحالی کے اقدامات کریں بلکہ کئی ملین سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ ان منحصر افراد سے بھی تبادلہ خیال کرے جو اس معاملہ کے سبب متاثر ہیں۔